ممبئی،06؍ دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بی جے پی اداکارہ مادھوری دکشت سے نینے کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں پونے سیٹ سے میدان میں اتارنے پر غور کر رہی ہے۔یہ معلومات پارٹی ذرائع نے دی۔بی جے پی صدر امت شاہ نے اس سال جون میں اداکارہ سے ممبئی واقع ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔شاہ اس وقت پارٹی کے’رابطہ فار حمایت‘ مہم کے تحت ممبئی پہنچے تھے۔شاہ نے اس دوران اداکارہ کو نریندر مودی حکومت کی کامیابیوں سے آگاہ کیا تھا۔ریاست کے ایک سینئر بی جے پی لیڈر نے جمعرات کو بتایا کہ مادھوری کا نام پونے لوک سبھا سیٹ کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پارٹی 2019 کے عام انتخابات میں مادھوری دکشت کو امیدوار بنانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ہمارا خیال ہے کہ پونے لوک سبھا سیٹ ان کے لئے بہتر ہو گی۔بی جے پی لیڈر نے کہاکہ پارٹی بہت لوک سبھا سیٹوں کے لئے امیدواروں کے نام طے کرنے کے عمل میں ہے اور دکشت کا نام پونے لوک سبھا حلقہ کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔اس کے لئے ان کے نام پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ 51 سالہ اداکارہ مادھوری نے کئی فلوں میں کام کیا ہے۔سال 2014 میں بی جے پی نے پونے لوک سبھا سیٹ کانگریس سے چھین لی تھی اور پارٹی امیدوار انل شرولے نے تین لاکھ سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت درج کی تھی۔مادھوری کو الیکشن لڑانے کے بارے میں بی جے پی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ اس طرح کے طریقے نریندر مودی نے گجرات میں تب اپنائے تھے جب وہ پہلی بار وزیر اعلی بنے تھے۔انہوں نے مقامی بلدیاتی انتخابات میں تمام امیدواروں کو تبدیل کر دیا اور پارٹی کو اس فیصلے کا فائدہ ملا۔ انہوں نے کہاکہ نئے چہرے لائے جانے سے کسی کے پاس تنقید کے لئے کچھ نہیں تھا۔اس سے اپوزیشن حیران رہ گیا اور بی جے پی نے زیادہ سے زیادہ سیٹ جیت کر اقتدار قائم رکھی۔ رہنما کے مطابق اسی طرح 2017 میں دہلی کے بلدیاتی انتخابات میں بھی کیا گیا جب تمام موجودہ کونسلر کو ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا گیا۔بی جے پی نے کامیابی حاصل کی۔